بنگلورو۔21؍اگست(ایس او نیوز) ویژن کرناٹکا کے زیر اہتمام امامیہ شادی محل ،جانسن مارکیٹ،بنگلور میں منعقدہ جنتا عدالت پروگرام میں رکن اسمبلی این اے حارث نے ان کے حلقہ کے منسپل مسائل پر سوال کا جواب دیتے ہوے انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔حلقے کے مسلم اور غیر مسلم عوام بڑی تعداد میں موجود تھے۔پروگرام مولانا محمد حسین اشرفی کی قرأت سے شروع ہوا۔جناب مختار احمد نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ایوب احمد خان ،اڈوکیٹ نے سامعین کا خیر مقدم کیا اور سید تحسین احمد ۔ کنوینر نے ویژن کرناٹکا کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔ غلام غوث نے اینکر کا رول ادا کرتے ہوئے مسٹر حارث سے سوال کیا کہ اکثر وہ علاقے جہاں غریب مسلمان اور دلت موجود رہتے ہیں وہاں کی حالت بہت ہی خراب رہتی ہے جبکہ دوسری جگہ حالت بہتر ہی بہتر رہتی ہے۔چاروں طرف کچرے کا ڈھیرپینے کا پانی اور سیانیٹری کے پانی سے مل جا تا ہے جس کے سبب لوگوں کی صحت پر برا اثر پڑ تا ہے ۔ راستے اور گلیاں مٹی اور کیچڑ سے بھرے پڑے ہیں ، برساتی نالے جھاڑو اور کچرے سے بھرے پڑے ہیں ،گندہ پانی جمع رہتا ہے جس کے سبب مچھروں کی بھر مار رہتی ہے ۔ ہیلتھ سنٹرس بہت کم ہیں اور جو ہیں وہاں پاکی صفائی نہیں ہے۔ کہنے کو نام روز گارڈن،آر۔کے۔گارڈن اور منی گوڈا گارڈن ہے مگر سب کے سب نام کے گارڈن ہیں اصل میں وہ سلمس ہیں جہاں چاروں طرف گندگی بھری پڑی ہے۔مسٹر حارث اور کارپوریٹروں نے سب کچھ جلد از جلد ٹھیک کر نے کا وعدہ کیااور کئی جگہ سیانیٹری لائنس بدلنے کا وعدہ بھی کیا۔راستوں پر ٹار ڈالنے کے سلسلہ میں غلام غوث نے پوچھا کہ کنٹراکٹرس کیوں تین انچ تار ڈالنے کی جگہ ایک انچ ڈالتے ہیں اور پوری رقم لے جاتے ہیں جبکہ وہ سب دیکھنے کے ذمہ دار انجینئرس خاموش رہتے ہیں۔اس پر مسٹر حارث نے کہا کہ عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان چیزوں پر نگاہ رکھے اور جہاں ایسا کچھ ہو تا ہے وہاں وہ حکام کو بتائے۔آپ نے کہا کہ کئی جگہ عوام غیر قانونی طریقہ راستہ کاٹ کر پانی اور سیانیٹری لائنس سے چھیڑ چھاڑ کر تے ہیں جس کے سبب پاک اور غلیظ پانی مل جا تا ہے۔ اس سوال پر کے یل آر نگر میں ایک ہزار سے زیادہ فلیٹ غریبوں کے لئے دو سال پہلے بنا نے کے باوجود انہیں اب تک الاٹ نہیں کیا گیا اور وہ خالی پڑے ہیں ،مسٹر حارث نے وعدہ کیا کہ وہ ستمبر2016کے آخر تک انہیں غریبوں کو الاٹ کرا دیں گے اور راستوں پر جلد از جلد تار ڈلوا دیں گے۔ویویک نگر کی مسجد معراج کے لئے جگہ الاٹ کر نے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا مگر حارث نے کہا اس مسئلہ کو یہاں نہیں بلکہ الگ سے سنا جائے گا اور فیصلہ لیا جائے گا۔علاقے کے کچھ حصوں میں بارش کے وقت تقریباً دو فیٹ پانی کھڑا ہو جا تا ہے اور گندے پانی کے ساتھ مل کر گھروں میں داخل ہوجاتاہے اور یہ پانی ایک یا دو دن برابر جمع رہتا ہے ۔انجینئروں نے وعدہ کیا کہ وہ اسے پاک رکھنے کی کوشش کریں گے مگر کئی جگہ حالت یہ ہے کہ راستے ایک فیٹ اوپر ہیں اور گھر نیچے۔ غلام غوث نے اسپتال اور ہیلتھ سینٹرس کو لیکر سوال کیا کہ بنگلور کی آبادی چار گنا بڑھ گئی ہے جبکہ وہاں صرف تین سرکاری جنرل اسپتال ہیں تو کیا آپ اور آپکی حکومت نے بنگلور کے کناروں پر کمار سوامی لے آوٹ ،ہسور روڈ میں بیگور، باگلور اور نائنڈ ہلی میں 4اسپتال کھولنے کی طرف غور کیا ہے۔مسٹر حارث نے وعدہ کیا کہ وہ اس مشورے کو حکومت تک پہنچائیں گے ۔ اسی طرح بنگلور کے راستوں پر موٹر گاڑیوں کی آمدورفت کم کر نے کے سلسلہ میں بھی سوال کئے گئے۔مسٹر غلام غوث نے پوچھا کہ کیوں حکومت دس لاکھ کار چلانے والوں کو تمام سہولتیں دینے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ پچاس لاکھ آٹو اور اسکوٹرسواروں کو اور فٹ پاتھ پر چلنے والوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ راستے اور گلیوں میں دونوں طرف کاریں رات دن کھڑی رہتی ہیں تو کیوں نہ ان پر ہر مہینہ تین ہزار روپئے کرایہ ڈالا جائے اور دوسرے ٹیکس عوام پر کم کر دیے جائیں ۔یوروپ،امریکہ اور سنگاپور کی طرح قانون بنایا جائے کہ جسکے پاس گیرج نہیں انہیں کار نہ فروخت کی جائے۔اس مشورے کو بھی حکومت تک پہنچانے کا وعدہ کیا گیا۔ آپ نے بتایا کہ وہ ایک ہی جگہ ایک ہی عمارت میں یم یل اے اور کارپوریٹرس کی آفس بنانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ہر جگہ اچھے ہیلتھ سینٹرس بھی قائم کروائیں گے۔جہاں سرکاری عمارت نہیں ہے وہاں کرائے کی عمارت لے کر ہیلتھ سینٹرس قائم کر نے کی بھی کوشش کی جائے گی۔ سامعین نے بھی تقریباً ایک گھنٹہ سوالات کئے اور اپنے مسائل پیش کر کے انہیں حل کر نے کا مطالبہ کیا۔ایک آخری سوال میں پوچھاگیاکہ ہم کانگریس پارٹی ہی کو کرناٹک کے آئندہ الیکشن میں ووٹ کیوں دیں۔ اس پر مسٹر حارث صاحب نے کئی وجوہات بتا تے ہوے اس بات پر زور دیا کہ کانگریس پارٹی ایک سیکولر ذہن رکھنے والی پارٹی ہے جو ہر خاص و عام کے نظریات کا احترام کر تی ہے۔ تمام حاضرین نے اس پروگرام کو منعقد کر نے پر ویژن کرناٹکا کی کافی سراہنا کی۔ دو گھنٹوں کے اس پروگرام کے آخر میں فیاض قریشی صاحب کے شکریے کے ساتھ پروگرام ختم ہوا۔